ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کیرالہ سبریملا مندر میں درشن کی کوشش کرنے والی خاتون کے چہرے پر کالی مرچ کا پاؤڈر پھینکا گیا

کیرالہ سبریملا مندر میں درشن کی کوشش کرنے والی خاتون کے چہرے پر کالی مرچ کا پاؤڈر پھینکا گیا

Wed, 27 Nov 2019 12:09:31    S.O. News Service

تھیرواننت پورم 27/نومبر (ایس ا و نیوز)کیرالہ کے سبریملا آئیپّا مندر میں 10-50کی خواتین کے داخلے پر جو پابندی ہے اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی پونے کی تروپتی دیسائی نامی ایک رضاکار خاتون کی قیادت میں خواتین کی پانچ رکنی ٹیم کوچی پہنچی اور پولیس کمشنریٹ پہنچ کر مندرمیں درشن کے لئے انہیں پولیس تحفظ فراہم کرنے کی مانگ کی۔مگر پولیس نے تحفظ فراہم نہ کرنے اور اس ٹیم کو بحفاظت ایئر پورٹ تک واپس پہنچانے کا موقف اختیار کیا کیونکہ پونے سے خواتین کی ٹیم پہنچنے کی اطلاع ملتے ہی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کے کارکنان بھی پولیس کمشنریٹ کے احاطے میں پہنچ گئے اور خواتین کی مخالفت میں احتجاج شروع کیا تھا۔

اس ٹیم میں بِندو امّینی نامی خاتون بھی تھی جس نے امسال جنوری کے مہینے میں ایک اور خاتون کے ساتھ مل کر خفیہ طور پر مندر کے اندر داخل ہونے میں کامیابی حاصل کی تھی اور اس مندر میں داخل ہونے والی ممنوعہ عمر کی پہلی خاتون بن گئی تھی۔بندو کو دیکھتے ہی موقع پر ایک ہندو تنظیم کے کارکن نے اس کے چہرے پر کالی مرچ کا پاؤڈر اچھال دیا۔ بندو کو فوری پر طبی امداد کے لئے قریبی اسپتال لے جایا گیا۔بندو پر مرچ کا سفوف اچھالنے کے الزام میں ہندو تنظیم کے ایک کارکن سریکانت کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ جب پولیس نے تحفظ نے فراہم نہ کرنے کی بات کہی تو پہلے تروپتی کی ٹیم نے واپس جانے پر رضامندی ظاہر کی تھی جس کے بعد مخالفت میں احتجاج کرنے والے ہندو تنظیموں کے رضاکار بھی وہاں سے ہٹ گئے تھے۔ مگر تھوڑی بعد تروپتی اور اس کے ساتھیوں نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ تحفظ فراہم نہ کرسکنے کی بات وہ انہیں تحریری طور پر دے۔ کیونکہ ابھی تک سپریم کورٹ نے گزشتہ سال خواتین کو مندرمیں داخلے کی جو اجازت دی تھی اس حکم پر کوئی اسٹے نہیں دیا تھا، صرف اس فیصلے کے خلاف اپیل کو دوسری ایک بڑی بینچ کے حوالے کیا تھا۔ پولیس نے جب کوئی تحریر دینے سے انکار کیا تو پھر تروپتی اور اس کے ساتھی اپنی ضد پر اڑ گئے اور پولیس کمشنریٹ میں دھرنے پر بیٹھ گئے۔ اس بات کی خبر ملنے پر ہندو تنظیموں کے کارکنان دوبارہ بڑی تعداد میں جمع ہوگئے اور مخالفت میں دھرنے پر بیٹھ گئے۔

بندو امینی نے بتایا کہ وہ کیرالہ حکومت کے خلاف توہین عدالت کی شکایت داخل کریں گی۔ جبکہ وزیر اعلیٰ کیرالہ پینارائی وجیانن کا کہنا ہے کہ ایک بڑی سازش کے تحت کیرالہ سے باہر سے لوگوں کو اکساکر یہاں لایا جارہا ہے، تاکہ تصادم اور بد امنی کی کیفیت پیدا کی جائے۔ اس منصوبے کے پیچھے کچھ شر پسند عناصر کام کررہے ہیں۔


Share: